حضرت میاں جمیل احمدشرقپوری نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ

اغراض ومقاصد > صفحہ 1

 

1۔ سلسلہ نقشبندیہ کی ترویج واشاعت کے لیے کوشش کرنا۔
2۔اس سلسلے پر علمی وتحقیقی کام کرنے والوں کوترغیب دینا۔
3۔اس سلسلے پرتحقیقی کام کرنے والوں کی ہرطرح سے معاونت کرنا۔
4۔ اس سلسلہ کی تایخ، افکاروتعلیمات سے متعلق ایک جامع فہرست مرتب کرکے شائع کرناجواردواورانگریزی زبانوں میں ہونی چاہیے۔
5۔نقشبندی سلسلہ کے اہم مآخذ جدید تقاضوں کے مطابق ایڈٹ کرکے شائع کرنا۔
6۔یورپین زبانوں میں اس سلسلہ کے قدیم واصل مآخذ کے تراجم تحقیق وحواشی کے ساتھ شائع کرنا۔
یہ ادارہ باقاعدہ وجودمیںآگیا۔ اس کے اجلاس بھی ہوئے۔3۔اپریل 2003ء کو اس کاپہلااجلاس لاہورمیں منعقدہوا۔ خودمیاں صاحب رحمۃاللہ علیہ نے پنجاب یونیورسٹی لاہورکے پروفیسراورعلماء کے سامنے اس کالائحہ عمل پڑھ کرسنایا۔ ایک اشتہار کے ذریعہ پاکستان کے اہل علم کواس کے قیام اوراغراض ومقاصد سے آگاہ کیاگیا۔ اکثرحضرات نے اس پر خوشی کااظہارکیاجن کی آراء حوزہ نقشبندیہ کی پہلی روداد 2003ء میں درج کی گئی ہیں۔
خودحضرت میاں صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس کے صدرقرارپائے۔ پروفیسرمحمد اقبال مجددی صاحب نائب صدراورمیاں محمدعالم مختارحق رحمۃاللہ علیہ اس کے سیکرٹری جبکہ قاضی ظہوراحمداخترصاحب اس کے نائب سیکرٹری مقررہوئے۔ دیگرحضرات کے نام بھی تجویزکردیئے گئے۔ ادارہ کے سیکرٹری نے اس کی مختلف نشستوں اوران میں ہونے والے فیصلوں سے متعلق ایک روداد مرتب کی جوحوزہ سے میاں صاحب رحمۃاللہ علیہ نے 2004ء میں شائع کی۔
اس کے بعد ادارہ کے باقاعدہ اجلاس اورنشستیں ہوتی رہیں۔ بس کچھ رودادیں جو میاں محمدعالم مختارحق علیہ الرحمۃ نے مرتب کی تھیں طبع ہوئیں جن کانام بعدمیں ’’مجالس جمیل ‘‘کردیاگیاکیوں کہ ان محفلوں میں اب عام باتیں ہونے لگی تھیں۔ 
حضورمیاں صاحب رحمۃاللہ علیہ میں علمی ذوق بدرجہ اتم موجودتھا۔ کئی کتب شائع کیں اورساری عمر مفت تقسیم بھی کیں۔ کبھی کسی سے قیمت نہیں لی۔یہاں تک کہ اپناقیمتی کتب خانہ بھی پنجاب یونیورسٹی لائبریری کوہدیہ کردیا۔ (ماہنامہ نوراسلام کافخرالمشائخ نمبرجلداول،ص288َ۔292)