نور اسلام - دسمبر -2018

محبوب خدا ﷺ کے جسم اطہر کی نظافت اور لطافت > صفحہ 2

 

البدایہ والنھایہ جلد ۸ صفحہ۳۵۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت:

ایک اور روایت میں ہے کہ جب حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ خون پی کر واپس آئے تو حضور ﷺ نے پوچھا اے عبداللہ تو نے خون کے ساتھ کیا کیا؟ انہوں نے کہا میں نے اسے پی لیا تاکہ اس کے ذریعے میرے علم وایمان میں اضافہ ہوجائے اور یہ میرے جسم میں رسول اللہ ﷺ کے جسم مبارک کا کوئی حصہ ہو اور میرا جسم زمین کے مقابلہ میں اس (خون) کا زیادہ حق دار ہے۔
فقال: ابشر لاتمسّک النّار ابدًا۔حضور اکرم ﷺ نے فرمایا تیرے لیے خوشخبری ہے کہ آگ تجھے کبھی نہیں چھوئے گی۔ 
البدایہ والنھایہ جلد ۸ صفحہ۳۴۱ دارالکتب العلمیۃ بیروت
امام شعبی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ آپ نے خون مبارک کا ذائقہ کیسا پایا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس خون مبارک کا ذائقہ شہد جیسا تھا اور اس کی خوشبو کستوری جیسی تھی۔ 
شرح شفاء جلد ۱ صفحہ۱۷۰ نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور 
المواہب الدنیہ میں ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم شفیع اعظم ﷺ کا خون مبارک پیا تو ان کے منہ سے کستوری کی خوشبو پھوٹتی تھی اور وہ خوشبو شہادت کے بعد بھی ان کے منہ میں باقی تھی۔ 
شرح زرقانی علی المواہب جلد۵ صفحہ۵۴۸ نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور
(6) ایک حجام نے حضور ﷺکو پچھنے لگائے جب وہ فارغ ہوا تو اس نے آپ ﷺ کے جسم اطہر سے نکلا ہوا خون مبارک لیا اور علیحدہ ہوکر پی لیا ۔ جب وہ واپس آیا تو آ پ ﷺنے نے فرمایا تونے اس خون کا کیا کیا؟ اس نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں نہیں چاہتا تھا کہ آپ ﷺ کا خون مبارک زمین پر گراؤں لہذاوہ میرے پیٹ میں ہے۔
فقال: اذھب فقد احرزت نفسک من النّار۔
آپ ﷺنے فرمایا جا تحقیق تو نے اپنے آپ کو دوزخ سے بچالیا ہے۔
شرح زرقانی علی المواہب جلد۵ صفحہ۵۴۵ نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور 
مدارج النبوت جلد۱صفحہ۸۵ مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور 
(7) غزوہ احد کے دن جب رسول اللہ اکرم ﷺزخمی ہوئے تو حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے والد حضرت مالک بن سنان رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے زخموں کو اپنے منہ سے خون مبارک چوس کر صاف کیا اور جب ان سے کہا گیا کہ خون کو تھوک دوتو انہوں نے کہا خدا کی قسم میں حضور ﷺ کے خون مبارک کر ہرگز نہیں تھوکوں گا۔ چنانچہ وہ خون مبارک کو نگل گئے اور اس کے بعد لڑنے میں مصروف ہوگئے۔
فقال النّبیّ ﷺ من اراد ان یّنظر الی رجل مّن اھل الجنّۃ فلینظر الی ھذا۔ 
نبی اکرم ﷺنے فرمایا۔ جو شخص کسی جنتی کو دیکھنا چاہے تو وہ مالک بن سنان کو دیکھ لے یہ جنتی ہیں۔ پھر وہ شہید ہوگئے۔ 
ایک روایت میں ہے کہ جب سیدنا مالک بن سنان رضی اللہ عنہ نے حضور ﷺ کا خون مبارک چوس لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا
من مسّ دمی دمہٗ لم تُصبہ النّار۔ 
یعنی جس کے خون میں میرا خون مل گیا اسے دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی۔ 
ایک اور روایت میں ہے کہ جب سیدنا مالک بن سنان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے خون مبارک کو پی لیا تو آپ ﷺ نے فرمایا۔
خالط دمی دمہٗ لا تمسّہ النّار۔ وفی روایۃٍ: لن تصیبہٗ النّار۔
یعنی جس کے خون میں میرا خون مل گیا اسے ہرگز آگ نہ پہنچے گی۔ 
شرح زرقانی علی المواہب جلد ۵ صفحہ۵۴۶ نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور
سبل الہدیٰ والرشاد جلد ۱۰ صفحہ ۳۹ مکتبہ نعمانیہ پشاور 
سیرت حلبیہ جلد ۲ صفحہ ۳۱۹ذکرمغاذیہ ﷺ دارالکتب العلمیۃ بیروت
مجمع الزوائر جلد ۸ صفحہ ۳۴۶ رقم الحدیث ۱۴۰۱۲ دارالکتب العلمیۃ بیروت
الشفاء جلد ۱ صفحہ۶۶ الفصل الثالث نظافتہ ﷺ وحیدی کتب خانہ پشاور
شرح شفاء جلد ۱ صفحہ ۱۶۹ نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور
الخصائص الکبریٰ جلد ۱ صفحہ ۴۳۳ مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور
مدارج النبوت جلد۱ صفحہ ۸۵ مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور
البدایہ والنھایہ جلد ۴ صفحہ ۲۶ دارالکتب العلمیۃ بیروت
مراۃ المناجیح جلد ۸ صفحہ ۱۰۵ قادری پبلشرز لاہور
قارئین کرام: ہمارے پیارے آقا ومولیٰ نبی رحمت شفیع اعظم ﷺ جب دنیا میں تشریف لائے تب بھی طیب وطاہر تھے اور جب اس دُنیا سے ظاہری پردہ فرمایا تب بھی طیب وطاہر تھے۔ 
چنانچہ حضور اکرم نور مجسم ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت سیدہ آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں۔ قد ولد تہٗ نظیفاً مابہٖ قذر’‘۔یعنی میں نے حضور ﷺ کو ایسا پاک وصاف جنا کہ (عموماً پیدائش کے وقت جو آلائش نکلتی ہے ایسی) کوئی ناپاکی اور آلودگی وغیرہ نہ تھی۔ 
الشفاء جلد۱ صفحہ ۶۷الفصل الثالث نظافتہ ﷺ وحیدی کتب خانہ پشاور
شرح شفاء جلد۱صفحہ۱۷۳ نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور 
شرح زرقانی علی المواہب جلد۱صفحہ۲۲۰ نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور
انوار محمدیہ من المواہب اللدنیہ صفحہ۳۷ دارالحدیث القاہرہ
سبل الہدیٰ والرشاد جلد۱ صفحہ۳۴۸ مکتبہ نعمانیہ پشاور
طبقات ابن سعد جلد۱ صفحہ۱۲۲ نفیس اکیڈمی کراچی
مدارج النبوت جلد ۲ صفحہ۳۰۱ مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور
جب نبی اکرم ﷺ کا وصال باکمال ہوا تو حضرت سیدنا مولاعلی رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو غسل دیا۔ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کے بطن اطہر پر ہاتھ پھیرا تو ایسی کوئی چیز نہ نکلی جو میت میں سے نکلتی ہے۔ تب میں نے کہا (یارسول اللہ ﷺ) آپ کی زندگی مبارک بھی طیب وطاہر تھی اور بعدازوصال بھی آپ طیب وطاہر ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آپ ﷺ کے بدن اقدس سے ایسی خوشبو نکلی کہ اس سے قبل میں نے ایسی خوشبو کبھی نہ پائی تھی۔ 
الشفاء جلد ۱ صفحہ۶۶ الفصل الثالث نظافتہ ﷺ وحیدی کتب خانہ پشاور
شرح شفاء جلد۱ صفحہ۱۶۹ نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور
ابن ماجہ جلد۱صفحہ۳۸۸ فرید بک سٹال لاہور
مستدرک حاکم جلد ۱ صفحہ ۷۲۷ رقم الحدیث ۱۳۳۹ شبیر برادراز لاہور
دلائل النبوۃ للبیہقی جلد ۷ صفحہ ۲۴۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت۔
شرح زرقانی علی المواہب جلد۱۲ صفحہ۱۵۹ نوریہ رضویہ پبلشنگ لاہور
انوار محمدیہ من المواہب اللدنیہ صفحہ ۵۷۷ دارالحدیث القاہرہ
سبل الہدیٰ والرشاد جلد ۱۲ صفحہ ۳۲۲ مکتبہ نعمانیہ پشاور
البدایہ والنھایہ جلد ۵ صفحہ ۲۸۴ صفۃ غسلہِ علیہ السلام دارالکتب العلمیۃ بیروت
الخصائص الکبریٰ جلد۲صفحہ ۶۰۲ مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور
مدارج النبوت جلد ۳ صفحہ ۳۵۳ مکتبہ اعلیٰ حضرت لاہور
حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ
ڈاکٹرنذیراحمدشرقپوری

امام:

امام سے مرادجس کاقصدکیاجائے اورجس سے ہدایت پائی جائے۔یاجس کی پیروی کی جائے۔ اس کے اوربھی بہت سے معنی اورمطالب ہیں۔۔۔چنانچہ ابوداؤدکی حدیث کی (کتاب الجہاد، باب33)میں امام سے سپہ سالاربھی مرادلے سکتے ہیں۔ تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف، کلام اورلغت وغیرہ علوم کے عظیم ماہروں کوبھی امام کہاگیاہے۔۔۔الامام سے نبی اکرم ﷺکی ذات بابرکات بھی مرادلی گئی ہے۔ اس طرح خلیفہ کوبھی امام کہاگیاہے۔ ملوک یمن بھی اب تک امام کہلاتے ہیں۔ امیرکوبھی امام کہتے ہیں۔۔۔الخ*
حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ باغ نبی ﷺکے ایک پھول ہیں جورہتی دنیاتک تروتازہ رہیں گے۔

شانِ اہل بیت:

رسول اللہ ﷺاوررسول اللہ ﷺکی اولادکے حسب ونسب کااحترام اورادب ہرمسلمان کے لیے ضروری ہے۔ جس کے شخص کے دل میں رسول اللہ ﷺاو ر رسول اللہ ﷺکی اولادکے حسب ونسب کااحترام وادب نہیں ہے تواس شخص کادل اوردماغ ایمان کی چاشنی سے خالی ہے۔ رسول اللہ ﷺکانسب اپنی بیٹی خاتونِ جنت سے چلاہے۔ حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاحسب ونسب رسول اللہ ﷺسے جاکرملتاہے۔ اس لیے اُن کاادب واحترام ہم سب مسلمانوں پرلازم وملزوم ہے۔
عابدین شامی( المتوفی 1252ء )لکھتے ہیں کہ امام حاکم نے اپنی سند کے ساتھ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ( المتوفی 90ھ )نے کہاکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ میرے رب نے میرے ساتھ وعدہ کیاہے کہ میری اہل بیت سے جوبھی اللہ تعالیٰ کی توحیداورمیری رسالت کااقرار کرے گااللہ تعالیٰ اس کو عذاب نہیں دے گا۔1؂

پیدائش:

حضرت حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ (234ھ ۔260ھ)ابن علی نقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ منور ہ میں پیداہوئے۔ نام حسن ، کنیت ابومحمداورالقاب عسکری ، ہادی اورذکی تھی۔سامرہ کے محلہ عسکری کی نسبت سے حسن عسکری کہلائے۔ والد کانام حضرت امام علی نقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھا۔ آپ اپنے والد کے ساتھ بغدادسے دورسامرہ میں رہے۔ آپ کوعام درس کاموقع نہ مل سکاپھربھی پاس پڑوس کے لوگ حاضرہوکر مستفیدہوتے تھے۔ 2؂
مفتی غلام رسول جماعتی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ائمہ اہل بیت اطہار سے امام یازدہم ہیں۔ اسم گرامی حسن ہے اورکنیت ابومحمدہے۔ آپ کے القاب عسکری ، ذکی، خالص وغیرہ ہیں۔ زیادہ مشہور القاب عسکری ہے۔ عسکری لقب اس وجہ سے ہے کہ آپ سرمن میں رائے کے محلہ عسکر میں میں رہتے تھے۔ اس محلہ کوعسکر اس بناپرکہتے ہیں کہ عباسی خلیفہ معتصم اس مقام پرفوج اور لشکررکھتاتھا۔ وہ خود بھی یہاں ہی رہتاتھا۔ اس لیے اس محلہ کوعسکرکہتے تھے۔ حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہاں رہنے کی وجہ سے عسکری مشہورہوئے۔3؂

علم وفضل:

حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوعلم وفضل وراثت میں ملاتھا۔ مورخین آپ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ایک دن بہلول دانانے دیکھاکہ بچے کھیل رہے ہیں۔ان کے قریب ایک خوبصورت بچہ کھڑاہواہے۔ بہلول دانااس بچے کے قریب گئے اوراس کوکہاکہ تم اس لیے نہیں کھیل رہے کہ جو کھلونے ان بچوں کے پاس ہیں۔ وہ تمہارے پاس نہیں۔ تم یہاں ہی رہنا۔ میں بازارسے تمہارے لیے کھلونے لے آتاہوں۔ آپ کم سنی کے باوجودفرمانے لگے کہ اے اللہ کے بندے ہم کھیلنے کے لیے پیدانہیں ہوئے بلکہ ہم تو علم وعبادت کے لیے پیداہوئے ہیں۔ بہلول دانانے پوچھاکہ تمہیںیہ کیونکرمعلوم ہواکہ پیداہونے کی غرض وغایت علم اورعبادت ہے توآپ نے فرمایا:’’قرآن پاک میں افحسبتم انماخلقناکم عبثا‘‘۔4؂کیاتم نے یہ گمان کیاہے کہ ہم نے تم کوبے فائدہ (کھیل کود)کے پیدا کیا۔ یہ سن کر بہلول دانا حیران ہوگئے۔ پھربہلول دانانے کہاکہ آپ مجھے نصیحت فرمائیے۔
آپ نے بہلول داناکواشعارمیں نصیحتیں کیں۔ پھرآپ بیہوش ہوکرگرپڑے ۔ جب آفاقہ ہواتوبہلول دانانے کہاکہ آپ کوکیاہواتھا کہ آپ بیہوش ہوگئے۔ آپ سے توگناہ تصوربھی
نہیں کیاجاسکتا۔ حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ کم سنی سے کیاہوتاہے؟میں نے اپنی والدہ کودیکھاہے کہ جب وہ آگ جلاتی ہیں توبڑی لکڑیوں کوجلانے کے لیے چھوٹی لکڑیاں پہلے جلاتی ہیں کیونکہ ان کوآگ جلدی پکڑتی ہے۔ میں ڈرتاہوں کہ کہیں جہنم کے بڑے ایندھن کے لیے ہم چھوٹے اورکم سن لوگ نہ جلائے جائیں۔ 5؂اس سے ثابت ہواکہ ائمہ اہل بیت اطہار کوعلم وراثت میں ملتاہے۔ حضرت امام حسن عسکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بہت بڑے قرآن کے مفسرتھے۔ آپ نے جوقرآن پاک کی تفسیرلکھی ہے وہ تفسیر عسکری کے نام سے مشہورہے۔